دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ

دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ

“دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ” by Hakkal is a thought-provoking exploration of ‘دک، بلوچ لبریشن آرمی، ہکل، بلوچستان’. Published in 2023, this literary work is a testament to the author’s dedication to advancing knowledge in their field. The book is housed in the opensource collection, and its significance is underscored by its 2024-01-04T12:57:46Z publication date. Written in , it stands as a valuable contribution to the realm of literature. The has played a crucial role in shaping the narrative, making this book an essential resource for enthusiasts and researchers alike. Its unique dhak-2023-urdu sets it apart as a distinctive work in the realm of دک، بلوچ لبریشن آرمی، ہکل، بلوچستان. Updated on 2024-01-04T12:57:46Z,2024-01-04T13:51:32Z, this book continues to be a source of inspiration and knowledge for readers worldwide.

دک - بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ

دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ

دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ

Buy From Store

[adinserter name=”Block 2″]

Details Of The Book :

  • Book Name : دک – بلوچ لبریشن آرمی سالانہ رپورٹ
  • Creator Name :Hakkal
  • Topics : دک، بلوچ لبریشن آرمی، ہکل، بلوچستان
  • Collection : opensource
  • Language :
  • File Type : PDF
  • File Size : 99161407 file size calclude in Byte Clik To See size of the file

Description :

بلوچ لبریشن آرمی کے مزاحمتکاروں کی کارروائیاں سال 2023 میں بھی قابض پاکستانی فوج، اس کے شراکت داروں اور آلہ کاروں کیخلاف جاری رہیں۔ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل بی ایل اے سرمچاروں نے دشمن کو کئی محاذوں پر شکست فاش دی۔   بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اس سال مجموعی طور پر دشمن پر 247 حملے کیے، جن میں 9 خصوصی آپریشن شامل ہیں، مذکورہ آپریشنوں میں دو فدائی حملے بھی شامل ہیں جبکہ اس سال مختلف نوعیت  کے104 دھماکوں میں دشمن کو نشانہ بنایا گیا۔   سرمچاروں نے سال 2023 میں مجموعی طور پر 171 سے زائد دشمن فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور مختلف نوعیت کے حملوں کے نتیجے میں 251 سے زائد دشمن فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ قابض فوج کیلئے مخبری اور سہولت کاری میں ملوث 42 آلہ کاروں کو ہلاک کیا گیاجن میں چھاپوں میں گرفتار و اعتراف جرم کے بعد بلوچ قومی عدالت سے سزائے موت پانے والے آلہ کار شامل ہیں۔   اس سال سرمچاروں نے دشمن فوج کو شدید مالی نقصانات سے دوچار کیا، مختلف حملوں میں دشمن فوج و آلہ کاروں کے 99  گاڑیاں و موٹر سائیکل تباہ کیئے جبکہ کارروائیوں میں 23 فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی تنصیبات، 4 سرویلنس ڈرونز تباہ کیئے گئے۔   بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ نے دو آپریشن سرانجام دیئے ، جن میں تین فدائین نے حصہ لیا۔ 24 جون 2023 کو فدائی سمعیہ قلندرانی بلوچ نے تربت شہر میں دشمن فوج کے خفیہ اداروں کے ایک “ہائی ویلیو” ٹارگٹ کو فدائی حملے میں نشانہ بناکر دشمن کو شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔   بی ایل اے – مجید بریگیڈ نے دوسری کارروائی 13 اگست 2023 کو گوادر میں سرانجام دی۔  یہ کارروائی بی ایل اے کی آپریشن زرپہازگ کا تیسرا حصہ تھا، جو دو گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کامیابی سے مکمل ہوا۔ اس آپریشن میں مجید برگیڈ کے دو فدائین نوید بلوچ عرف اسلم اور مقبول بلوچ عرف قائم سمیت، بی ایل اے کی انٹیلیجنس ونگ اور ٹیکٹیکل ونگ نے شرکت کی، آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کے تزویراتی شریک چین کے چار شہری ہلاک اور ان کی حفاظت پر مامور کم از کم گیارہ فوجی اہلکار ہلاک کردیئے گئے جبکہ حملے میں متعدد زخمی بھی ہوئے۔   بلوچ لبریشن آرمی کے خصوصی دستوں اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) اور فتح اسکواڈ نے سات آپریشنز کیئے۔ فتح اسکواڈ نے کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ایک کیمپ کو مکمل قبضے میں  لینے کے بعد دشمن کے اسلحہ گولہ بارود پر قبضہ کیا گیا۔ اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے شہری محاذ پر قابض پاکستان کے ذیلی اداروں کے آفیسران و آلہ کاروں کو ہلاک کیا۔ اس سال بی ایل اے کے خصوصی دستے ایس ٹی او ایس نے بولان کے علاقے مارگٹ میں خفیہ اطلاع پر ناکہ بندی کرکے پاکستان فوج کے دو اہلکاروں کو حراست میں لیا۔   سال 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی کے 14 جانباز سرمچار شہادت کے مرتبت پر فائز ہوئے ،جن میں شہید ممتاز عرف مُلا بہرام، شہید غنی مری عرف حسن، شہید ولید عرف کمانڈو بہار، شہید مسلم عرف گُرو جبار، شہید کامریڈ مقصود عرف کامریڈ مہروان المعروف ماس، شہید مسعود عرف بالاچ، شہید میران عرف گُرو، شہید فیض بزدار عرف دلجان، شہید شاہد ابن دُر بی بی عرف دُرا، شہید نجیب لہڑی عرف رفیق، شہید عامر سرپرہ عرف عمر، شہید فدائی سمعیہ قلندرانی عرف سمو، شہید فدائی نوید عرف اسلم، شہید فدائی مقبول عرف قائم شامل ہیں۔   بلوچ لبریشن آرمی دشمن افواج، انکے شراکت داروں، تنصیبات اور آلہ کاروں کو اس وقت تک نشانہ بناتی رہیگی جب تک دشمن بلوچستان سے مکمل انخلاء پر مجبور نہیں ہوجاتا۔

[adinserter name=”Block 1″]

[adinserter name=”Block 1″]

Sofia Bewa
Sofia Bewa

Fish is one of our main sources of animal meat. Fish play a significant role in providing employment, foreign exchange earnings and nutrition. Different types of fish can be cultivated in the same pond, fish can be cultivated in canals and ponds, and fish can be cultivated in cages. Fish farming is the production of more fish than natural production in a specific water body in a planned way with low capital, short time and suitable technology. In order to be profitable in fish farming, the fish farmer has to follow certain rules in every phase from fish farming planning to marketing. Ignorance or negligence of the fish farmer or mistake is an obstacle to profitable fish farming. Fish is an important element in our daily diet. Due to the high demand for fish, it is possible to earn good income from fish farming. In addition to the local bazaar, it is possible to make a profit by selling fish in distant markets. Moreover, it is possible to earn a lot of foreign exchange by exporting fish abroad. Bangladesh is now fourth in fish farming. It is our pride.

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

KitabPDF
Logo
Shopping cart